نئی دہلی، 17/اگست(ایس او نیوز/ایجنسی)عدالت عظمیٰ نے 16اگست کو ایک ہینڈبک ریلیز کیا ہے جس میں ایسے الفاظ کا ذکر ہے جو جنسی قدامت پسندی کو قائم رکھتے ہیں - قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان جنسی قدامت پسندی والے الفاظ کا عدالت میں استعمال کرنے سے پرہیز کیے جانے کی تلقین کی گئی ہے- ایسے الفاظ میں افیئر(معاشقہ)، ہاؤس وائف (خاتون خانہ)، پراسٹی ٹیوٹ(طوائف)اور ایو ٹیزنگ(چھیڑخانی)وغیرہ شامل ہیں۔
اس تعلق سے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ اس ہینڈبک کے ذریعہ یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کونسے الفاظ قدامت پسند ہیں اور ان سے کیسے بچا جا سکتا ہے- انھوں نے کہا کہ اس ہینڈ بک میں ان قابل اعتراض الفاظ کی فہرست موجود ہے، ساتھ ہی ان کی جگہ استعمال کیے جانے والے الفاظ کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔
چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کا کہنا ہے کہ قدامت پسندی والے الفاظ کی جگہ ایسے الفاظ دیے گئے ہیں جن کو عدالت میں دلیلیں پیش کرنے، حکم صادر کرنے اور اس کی کاپی تیار کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے- یہ ہینڈ بک وکیلوں کے ساتھ ساتھ ججوں کیلئے بھی ہے- اس ہینڈ بک میں ان الفاظ کے بارے میں بتایا گیا ہے جو اب تک عدالت میں استعمال کیے گئے- ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ لفظ غلط کیوں ہیں - اس کی مدد سے خواتین کے خلاف قابل اعتراض زبان کے استعمال سے بھی بچ سکیں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جاری کردہ ہینڈبک میں افیئر کی جگہ شادی کے باہر رشتہ، پراسٹی ٹیوٹ/ہوکر کی جگہ سیکس ورکر، انویڈ مدر (بن بیاہی ماں)کی جگہ صرف ماں، چائلڈ پراسٹی ٹیوٹ کی جگہ اسمگلنگ کر کے لایا گیا بچہ، باسٹرڈ (حرامی)کی جگہ ایسا بچہ جس کے والدین نے شادی نہ کی ہو، ایو ٹیزنگ کی جگہ اسٹریٹ سیکسوئل ہیراس منٹ، ہاؤز وائف کی جگہ ہوم میکر، مسٹریس کی جگہ وہ خاتون جس کے ساتھ کسی مرد نے شادی سے الگ رومانی یا جنسی تعلقات بنائے ہوں ……کا استعمال کرنے کو کہا گیا ہے-
ہینڈ بک بیداری کیلئے بنائی گئی ہے، تنقید کیلئے نہیں:چیف جسٹس (سی جے آئی) چندر چوڑ نے کہا کہ اس ہینڈ بک کو تیار کرنے کا مقصد کسی فیصلے پر تنقید یا شک کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ بتانا ہے کہ قدامت پرستی کی روایت کس قدر نادانستہ طور پر چل رہی ہے- عدالت کا مقصد یہ بتانا ہے کہ دقیانوسی تصور کیا ہے اور اس سے کیا نقصانات ہیں، تاکہ عدالتیں خواتین کے خلاف قابل اعتراض زبان کے استعمال سے بچ سکیں - اسے جلد ہی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دیا جائے گا-